12 مارچ 2015 - 13:54
ایران کےخلاف امریکہ کی ہنگامی صورتحال کی مدت میں توسیع

امریکی صدر بارک اوباما نے کہا ہے کہ ایران کے غیر معمولی خطرے سے مقابلے کے لئے ملت ایران کے خلاف جامع پابندیاں برقرار رہیں گی۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر نے کانگریس کے نام ایک خط میں اس بات کا دعوی کرتے ہوئے کہ ایران، امریکہ کے لئے ایک غیر معمولی خطرہ شمار ہوتا ہے ، ایران کے خلاف قومی ہنگامی صورتحال کی مدت میں توسیع کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس خطرے سے مقابلے کے لئے ایران کے خلاف جامع پابندیاں برقرار رہیں گی۔

امریکی صدر باراک اوبام نے بدھ کو شائع ہونے والے اس مراسلے میں کہا ہے کہ حکومت ایران کی مخصوص پالیسیاں اور اقدامات، امریکی مفادات کے برخلاف ہیں اس لئے ایران بدستور، امریکہ کی قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور معیشت کے لئے غیر معمولی خطرہ شمار ہوتا ہے ۔
ایران کے بارے میں امریکہ کی جانب سے اعلان شدہ ہنگامی صورتحال کا جاری رکھنا اگرچہ اس کے داخلی مسائل کے سبب ہے تاہم اس کا دائرہ کار، محض داخلی حد تک ہی محدود نہیں ہے کیوں کہ یہ روش برسوں سے ایران کے خلاف نام نہاد جامع پابندیوں کے برقرار رکھنے کے ایک ہتھکنڈے میں تبدیل ہوگئی ہے۔

واضح رہے کہ انیس سو اناسی میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد تہران میں امریکہ کے جاسوسی کے اڈے پرقبضے کے بعد، اس وقت کے امریکی صدر جمی کارٹر نے ایران کی جانب سے امریکہ کی اقتصادی اورخارجہ پالیسی کی قومی سلامتی کے لئے، نام نہاد غیرمعمولی خطرات کامقابلہ کرنے کے بہانے، قومی ہنگامی صورت حال کافرمان جاری کیا تھا۔
ہنگامی صورت حال کے قانون سے امریکی صدر کویہ اختیارحاصل ہوتا ہے کہ وہ امریکہ کی قومی سلامتی کے لئے اقتصادی اورخارجہ پالیسی کو درپیش غیرمعمولی خطرات کامقابلہ کرنے کے لئے پابندیوں سمیت دوسرے تمام اقدامات کرسکتا ہے۔
چنانچہ انیس سو اناسی کے بعد سے اب تک ہر سال امریکی صدر، ایران کو امریکہ کی سلامتی کے لئے غیر معمولی خطرہ قرار دیتے ہوئے ایران کے خلاف اس ہنگامی صورتحال کی مدت میں توسیع کرتا ہے۔
واشنگٹن نے نومبر دوہزار تیرہ میں یعنی جب جنیوا میں ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان عارضی معاہدے پر دستخط ہوئے تھے، اس قانون پر عملدرآمد کی مدت میں توسیع کردی تھی اور جب ایران نے اس پر اعتراض کیا تو وائٹ ہاؤس نے صرف یہی کہنے پر اکتفا کیا کہ اس کی مدت میں توسیع ، امریکی پالیسی میں معمول کا عمل ہے اور اس کی مدت ختم ہونے سے قبل ہی، اس میں توسیع ضروری ہے۔ لیکن اس ہنگامی صورتحال کی مدت میں توسیع ، اس پیغام کی حامل ہے امریکی حکومت کے فیصلے، بدستور اس کے سیاسی نقطہ ہائے نگاہ کے تابع ہیں۔
ایک اور نکتہ یہ ہے کہ کسی سبب کے بغیر ہی، ایران کے خلاف ہنگامی صورتحال کی مدت میں توسیع، درحقیقت ایرانو فوبیا کی پالیسی کا ایک حصہ ہے کہ جسے مختلف بے بنیاد بہانوں کے ذریعے ایران کے پر امن ایٹمی پروگرام کے خلاف بروئے کار لایا جارہاہے۔

۔۔۔۔۔۔۔

/169